لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

اطہر نفیس

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

اطہر نفیس

MORE BY اطہر نفیس

    لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

    میں اپنے وجود کی سزا ہوں

    زخموں کے گلاب کھل رہے ہیں

    خوشبو کے ہجوم میں کھڑا ہوں

    اس دشت طلب میں ایک میں بھی

    صدیوں کی تھکی ہوئی صدا ہوں

    اس شہر طرب کے شور و غل میں

    تصویر سکوت بن گیا ہوں

    بے نام و نمود زندگی کا

    اک بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں

    شاید نہ ملے مجھے رہائی

    یادوں کا اسیر ہو گیا ہوں

    اک ایسا چمن ہے جس کی خوشبو

    سانسوں میں بسائے پھر رہا ہوں

    اک ایسی گلی ہے جس کی خاطر

    درماندہ کو بہ کو رہا ہوں

    اک ایسی زمیں ہے جس کو چھو کر

    تقدیس حرم سے آشنا ہوں

    اے مجھ کو فریب دینے والے

    میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں

    میں تیرے قریب آتے آتے

    کچھ اور بھی دور ہو گیا ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : shab-khoon-shumara-number-49 (Pg. 39)
    • اشاعت : 1970

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY