میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا

حجاب عباسی

میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا

حجاب عباسی

MORE BYحجاب عباسی

    میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا

    نہ میں لکھوں تو پھر اس بے بسی کو کون لکھے گا

    بہت مصروف ہیں اہل جہاں ہرزہ سرائی میں

    اب آشوب سخن میں بے حسی کو کون لکھے گا

    کئی صدیاں گزاریں منزلوں کے کھوج میں پھرتے

    تو پھر میرے سوا اس گمرہی کو کون لکھے گا

    ہم اس شہر جفا پیشہ سے کچھ امید کیا رکھیں

    یہاں اس ہاو ہو میں خامشی کو کون لکھے گا

    اسے فرصت نہیں ساحل، سمندر، موج لکھنے سے

    پریشاں ہوں مری تشنہ لبی کو کون لکھے گا

    حجابؔ اس شہر نا پرساں میں سب جھگڑا انا کا ہے

    سرور خود پرستی میں خودی کو کون لکھے گا

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 22.04.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY