ملال زرد قبائی کو دھو رہا ہوگا

حمیدہ شاہین

ملال زرد قبائی کو دھو رہا ہوگا

حمیدہ شاہین

MORE BYحمیدہ شاہین

    دلچسپ معلومات

    رنگوں کا دلچسپ استعمال

    ملال زرد قبائی کو دھو رہا ہوگا

    رگوں کا سرخ کہیں سبز ہو رہا ہوگا

    وہ جس کے دم سے گلابی تھی خواب گاہ مری

    نہ جانے کس کے دھندلکوں سے سو رہا ہوگا

    مرے سفید کسی کا رجوع مان بھی لے

    کہ اب نہیں وہ سیہ راز گو رہا ہوگا

    وہ کیسری جو مری اوڑھنی پہ کھل نہ سکا

    اب اپنا بیچ کہیں اور بو رہا ہوگا

    جو سرمئی میں کھلا جا رہا ہے شام ڈھلے

    کہیں تو اپنا سنہرا سمو رہا ہوگا

    ملے دلے سے پڑے ہیں جو نیل گوں لمحے

    انہی کا زعم سماوات کو رہا ہوگا

    پڑا ہے رنگ سے عاری بنت سے ادھڑا ہوا

    گزشتہ نقرئی جھلمل کو رو رہا ہوگا

    فضا یوں ہی تو نہیں ملگجی ہوئی جاتی

    کوئی تو خاک نشیں ہوش کھو رہا ہوگا

    قتیل رنگ نہ ہوگا وہ سیر چشم کبھی

    وفا کی دودھیا بانہوں میں جو رہا ہوگا

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY