مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہے

اعتبار ساجد

مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہے

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    مرا ہے کون دشمن میری چاہت کون رکھتا ہے

    اسی پر سوچتے رہنے کی فرصت کون رکھتا ہے

    مکینوں کے تعلق ہی سے یاد آتی ہے ہر بستی

    وگرنہ صرف بام و در سے الفت کون رکھتا ہے

    نہیں ہے نرخ کوئی میرے ان اشعار تازہ کا

    یہ میرے خواب ہیں خوابوں کی قیمت کون رکھتا ہے

    در خیمہ کھلا رکھا ہے گل کر کے دیا ہم نے

    سو اذن عام ہے لو شوق رخصت کون رکھتا ہے

    مرے دشمن کا قد اس بھیڑ میں مجھ سے تو اونچا ہو

    یہی میں ڈھونڈھتا ہوں ایسی قامت کون رکھتا ہے

    ہمارے شہر کی رونق ہے کچھ مشہور لوگوں سے

    مگر سب جانتے ہیں کیسی شہرت کون رکھتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY