مری دنیا کا محور مختلف ہے

حمیدہ شاہین

مری دنیا کا محور مختلف ہے

حمیدہ شاہین

MORE BYحمیدہ شاہین

    مری دنیا کا محور مختلف ہے

    نہ اس میں آ یہ چکر مختلف ہے

    مجھے آتش بجاں رکھا گیا ہے

    مری مٹی کا جوہر مختلف ہے

    مجھے لکھنے سے پہلے سوچ لینا

    مرا کردار یکسر مختلف ہے

    میں خوابوں سے زیادہ ٹوٹتی ہوں

    کہ موجود و میسر مختلف ہے

    ذرا سی موج پر حیران مت ہو

    یہاں سارا سمندر مختلف ہے

    کوئی مانوس خوشبو ساتھ اتری

    لہو بولا یہ نشتر مختلف ہے

    ستارہ ہے کوئی گل ہے کہ دل ہے

    تری ٹھوکر میں پتھر مختلف ہے

    ترے گیتوں کا مطلب اور ہے کچھ

    ہمارا دھن سراسر مختلف ہے

    سفر کا رنگ و رخ اب تک وہی ہے

    منادی تھی کہ رہبر مختلف ہے

    کسی جانب سے تو آئے بشارت

    فضا بدلی ہے منظر مختلف ہے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    مری دنیا کا محور مختلف ہے عذرا نقوی

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 440)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY