مسترد ہو گیا جب تیرا قبولا ہوا میں

ظفر اقبال

مسترد ہو گیا جب تیرا قبولا ہوا میں

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    مسترد ہو گیا جب تیرا قبولا ہوا میں

    یاد کیا آؤں گا اس طرح سے بھولا ہوا میں

    بات مجھ میں بھی کچھ اس طرح کی ہوگی جو یہاں

    کبھی واپس ہی نہ ہوتا تھا وصولا ہوا میں

    خاک تھی اور ہوا تھی مرے اندر باہر

    دشت اک سامنے تھا اور بگولا ہوا میں

    نہیں مرنے میں بھی درکار تعاون مجھ کو

    چھت سے اپنی ہی نظر آؤں گا جھولا ہوا میں

    وقت وہ تھا کہ خد و خال نمایاں تھے مرے

    اب یہ حالت ہے کہ بس اک ہیولیٰ ہوا میں

    یہ بھی سچ ہے کہ عمل مجھ پہ کسی نے نہ کیا

    ورنہ کہنے کو تو مشہور مقولہ ہوا میں

    اک نحوست ہے مرے موسموں پر چھائی ہوئی

    ہے یہی وجہ کہ پھلتا نہیں پھولا ہوا میں

    پھر کسی سے بھی گرہ مجھ پہ لگائی نہ گئی

    کوئی بے ڈھب ہی بہت مصرع اولیٰ ہوا میں

    موت کے ساتھ ہوئی ہے مری شادی سو ظفرؔ

    عمر کے آخری لمحات میں دولہا ہوا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY