نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا

سلیم احمد

نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا

سلیم احمد

MORE BYسلیم احمد

    نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا

    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    افق پہ دیکھنا تھا میں قطار قازوں کی

    مرا رفیق کہیں دور جانے والا تھا

    مرا خیال تھا یا کھولتا ہوا پانی

    مرے خیال نے برسوں مجھے ابالا تھا

    ابھی نہیں ہے مجھے سرد و گرم کی پہچان

    یہ میرے ہاتھوں میں انگار تھا کہ ژالہ تھا

    میں آج تک کوئی ویسی غزل نہ لکھ پایا

    وہ سانحہ تو بہت دل دکھانے والا تھا

    معانی شب تاریک کھل رہے تھے سلیمؔ

    جہاں چراغ نہیں تھا وہاں اجالا تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY