نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک

یعقوب عامر

نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک

یعقوب عامر

MORE BYیعقوب عامر

    نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک

    دعاؤں تک تھی سحر اور شام رونے تک

    مجھے بھی خود نہ تھا احساس اپنے ہونے کا

    تری نگاہ میں اپنا مقام کھونے تک

    ہر ایک شخص ہے جب گوشت نوچنے والا

    بچے گا کون یہاں نیک نام ہونے تک

    چہار سمت سے رہزن کچھ اس طرح ٹوٹے

    کہ جیسے فصل کا تھا اہتمام بونے تک

    بتا رہا ہے ابھی تک ترا دھلا دامن

    کہ داغ بھی ہیں نمایاں تمام دھونے تک

    ہزار رنگ تمنا ہزار پچھتاوے

    عجب تھا ذہن میں اک اژدہام سونے تک

    سنا ہے ہم نے بھی آزاد تھا کبھی عامرؔ

    کسی کی چاہ کا لیکن غلام ہونے تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY