نیا مضموں کتاب زیست کا ہوں

سلیم احمد

نیا مضموں کتاب زیست کا ہوں

سلیم احمد

MORE BYسلیم احمد

    نیا مضموں کتاب زیست کا ہوں

    نہایت غور سے سوچا گیا ہوں

    سنیں مجھ کو تو میں دھڑکن ہوں دل کی

    نہیں سنتے تو صحرا کی صدا ہوں

    مری جانب کوئی آئے تو پوچھوں

    نشان راہ ہوں منزل ہوں کیا ہوں

    کسی کو کیا بتاؤں کون ہوں میں

    کہ اپنی داستاں بھولا ہوا ہوں

    خود اپنی دید سے اندھی ہیں آنکھیں

    خود اپنی گونج سے بہرا ہوا ہوں

    مری سیرابیوں میں تشنگی ہے

    کہ میں دریا ہوں لیکن ریت کا ہوں

    وہ رن مجھ میں پڑا ہے خیر و شر کا

    کہ اپنی ذات میں اک کربلا ہوں

    مرا سینہ ہے چھلنی نے کی صورت

    انہیں زخموں سے میں نغمہ سرا ہوں

    مجھے شبنم کا آئینہ ملا ہے

    اسی میں گل کی صورت دیکھتا ہوں

    مری موجودگی سے بندگی ہے

    کہ جب سے گم ہوا ہوں میں خدا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY