نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

جلیل مانک پوری

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

جلیل مانک پوری

MORE BYجلیل مانک پوری

    نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

    وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

    گنہ گنہ نہ رہا اتنی بادہ نوشی کی

    اب ایک شغل ہے کچھ لذت شراب نہیں

    ہمیں تو دور سے آنکھیں دکھائی جاتی ہیں

    نقاب لپٹی ہے اس پر کوئی عتاب نہیں

    پیے بغیر چڑھی رہتی ہے حسینوں کو

    وہاں شباب ہے کیا کم اگر شراب نہیں

    بہار دیتا ہے چھن چھن کے نور چہرے کا

    سر نقاب ہے جو کچھ تہ نقاب نہیں

    وہ اپنے عکس کو آواز دے کے کہتے ہیں

    ترا جواب تو میں ہوں مرا جواب نہیں

    اسے بھی آپ کے ہونٹوں کا پڑ گیا چسکا

    ہزار چھوڑیئے چھٹنے کی اب شراب نہیں

    بتوں سے پردہ اٹھانے کی بحث ہے بے کار

    کھلی دلیل ہے کعبہ بھی بے نقاب نہیں

    جلیلؔ ختم نہ ہو دور جام مینائی

    کہ اس شراب سے بڑھ کر کوئی شراب نہیں

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY