نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر

دلاور علی آزر

نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر

دلاور علی آزر

MORE BYدلاور علی آزر

    نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر

    میں نے بوسہ دیا مہتاب کی پیشانی پر

    اس قبیلے میں کوئی عشق سے واقف ہی نہیں

    لوگ ہنستے ہیں مری چاک گریبانی پر

    نظر آتی ہے تجھ ایسوں کو شباہت اپنی

    میں نے تصویر بنائی تھی کبھی پانی پر

    ہم فقیروں کو اسی خاک سے نسبت ہے بہت

    ہم نہ بیٹھیں گے ترے تخت سلیمانی پر

    اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا

    میں پریشان ہوا جس کی پریشانی پر

    پاس ہے لفظ کی حرمت کا وگرنہ آزرؔ

    کوئی تمغہ تو نہیں ملتا غزل خوانی پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY