آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں

محمد علوی

آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں

    ٹیبل پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں میں

    گلی گلی میں اپنے آپ کو ڈھونڈتا ہوں

    اک اک کھڑکی میں اس کو پاتا ہوں میں

    اپنے سب کپڑے اس کو دے آتا ہوں

    اس کا ننگا جسم اٹھا لاتا ہوں میں

    بس کے نیچے کوئی نہیں آتا پھر بھی

    بس میں بیٹھ کے بے حد گھبراتا ہوں میں

    مرنا ہے تو ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں

    ٹھہر ذرا گھر جا کے ابھی آتا ہوں میں

    گاڑی آتی ہے لیکن آتی ہی نہیں

    ریل کی پٹری دیکھ کے تھک جاتا ہوں میں

    علویؔ پیارے سچ سچ کہنا کیا اب بھی

    اسی کو روتا دیکھ کے یاد آتا ہوں میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY