قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

فیض احمد فیض

قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

فیض احمد فیض

MORE BYفیض احمد فیض

    قرض نگاہ یار ادا کر چکے ہیں ہم

    سب کچھ نثار راہ وفا کر چکے ہیں ہم

    کچھ امتحان دست جفا کر چکے ہیں ہم

    کچھ ان کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم

    اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی

    قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم

    دیکھیں ہے کون کون ضرورت نہیں رہی

    کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم

    اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں

    رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم

    ان کی نظر میں کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ

    جتنا لہو تھا صرف قبا کر چکے ہیں ہم

    کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے

    سو بار ان کی خو کا گلا کر چکے ہیں ہم

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    بیگم اختر

    بیگم اختر

    مأخذ :
    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 188)
    • Author : faizahmad faiz
    • مطبع : educational publishing house (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY