قرب نس نس میں آگ بھرتا ہے

عبد العزیز خالد

قرب نس نس میں آگ بھرتا ہے

عبد العزیز خالد

MORE BYعبد العزیز خالد

    قرب نس نس میں آگ بھرتا ہے

    وصل سے اضطراب بڑھتا ہے

    میں فقط ایک خواب تھا تیرا

    خواب کو کون یاد رکھتا ہے

    آج کی شب شب قیامت ہے

    دل مرا بے طرح دھڑکتا ہے

    فقر کیا ہے بہ دوست پیوستن

    غم کا عرفاں ہے آگہی کیا ہے

    میں ملاتا ہوں شعر و آتش کو

    فن مجھے کیمیا کا آتا ہے

    توشۂ راہ عشق ہے اندوہ

    غم دلوں کو قریب لاتا ہے

    شعر تازہ ہے تحفۂ شاعر

    مشک نافہ ہرن نے اگلا ہے

    قلت کلفت و تکلف میں

    راحت قلب نا شکیبا ہے

    عیش ناپائیدار پر نازاں

    آدمی کتنا بھولا بھالا ہے

    جان کا صرفہ ہو تو ہو لیکن

    صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے

    کسے پاس مراتب الفاظ

    حشر معنی سے قتل برپا ہے

    پا کے غافل کہیں نہ ڈس لے تمہیں

    ڈرو اس سے جو تم سے ڈرتا ہے

    مقصد اثبات ذات ہے اس سے

    کیا گلے کا سبب بھی ہوتا ہے

    سچے تخلیق کار کی مانند

    اونگھتا ہے خدا نہ سوتا ہے

    آب و رنگ حیات ہے اس سے

    آرزو جاگتوں کا سپنا ہے

    میرے مولا کریم نے مجھ کو

    غیر مطبوع ذہن بخشا ہے

    یوں لگے جیسے پردۂ سیمیں

    آنکھ کیا روح کا دریچہ ہے

    کس نے دیکھا ہے پردۂ ظلمات

    دل کے بھیدوں کو کس نے پایا ہے

    کون مر کر دوبارہ زندہ ہوا

    کون ملک فنا سے لوٹا ہے

    کر کے یکسر مجھے نظر انداز

    کس سے دل ہم کلام رہتا ہے

    باوجود فشار شب ہمہ شب

    حسن ہر صبح تازہ ہوتا ہے

    ہر بن مو بنا ہے پردۂ ساز

    دل کے تاروں کو کس نے چھیڑا ہے

    بات عبدالعزیز خالدؔ کی

    داستان امیر حمزہ ہے

    مآخذ :
    • کتاب : sarab-e-sahil (Pg. 111)
    • Author : Abdul Aziz Khalid
    • مطبع : Maqbool Acedami, Lahore (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY