راستہ سنسان تھا تو مڑ کے دیکھا کیوں نہیں

اسلم آزاد

راستہ سنسان تھا تو مڑ کے دیکھا کیوں نہیں

اسلم آزاد

MORE BYاسلم آزاد

    راستہ سنسان تھا تو مڑ کے دیکھا کیوں نہیں

    مجھ کو تنہا دیکھ کر اس نے پکارا کیوں نہیں

    دھوپ کی آغوش میں لیٹا رہا میں عمر بھر

    مہرباں تھا وہ تو مثل ابر آیا کیوں نہیں

    ایک پنچھی دیر تک ساحل پہ منڈلاتا رہا

    مضطرب تھا پیاس سے لیکن وہ اترا کیوں نہیں

    قرب کی قوس قزح کمرے میں بکھری تھی مگر

    رات بھر رنگ تمنا پھر بھی نکھرا کیوں نہیں

    مجھ کو پتھر میں بدلتے چاہے خود بن جاتے وہ موم

    خواہش طفل تمنا کو جگایا کیوں نہیں

    اس کو تنہا پا کے اسلمؔ رات اپنے روم میں

    قطرۂ خون ہوس آنکھوں میں آیا کیوں نہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Mukhtalif (Pg. 65)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY