رات میں اس کشمکش میں ایک پل سویا نہیں

امجد اسلام امجد

رات میں اس کشمکش میں ایک پل سویا نہیں

امجد اسلام امجد

MORE BYامجد اسلام امجد

    رات میں اس کشمکش میں ایک پل سویا نہیں

    کل میں جب جانے لگا تو اس نے کیوں روکا نہیں

    یوں اگر سوچوں تو اک اک نقش ہے سینے پہ نقش

    ہائے وہ چہرہ کہ پھر بھی آنکھ میں بنتا نہیں

    کیوں اڑاتی پھر رہی ہے در بدر مجھ کو ہوا

    میں اگر اک شاخ سے ٹوٹا ہوا پتا نہیں

    آج تنہا ہوں تو کتنا اجنبی ماحول ہے

    ایک بھی رستے نے تیرے شہر میں روکا نہیں

    حرف برگ خشک بن کر ٹوٹتے گرتے رہے

    غنچۂ عرض تمنا ہونٹ پر پھوٹا نہیں

    درد کا رستہ ہے یا ہے ساعت روز حساب

    سیکڑوں لوگوں کو روکا ایک بھی ٹھہرا نہیں

    شبنمی آنکھوں کے جگنو کانپتے ہونٹوں کے پھول

    ایک لمحہ تھا جو امجدؔ آج تک گزرا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY