روشنی سانس ہی لے لے تو ٹھہر جاتا ہوں

احمد کمال پروازی

روشنی سانس ہی لے لے تو ٹھہر جاتا ہوں

احمد کمال پروازی

MORE BYاحمد کمال پروازی

    روشنی سانس ہی لے لے تو ٹھہر جاتا ہوں

    ایک جگنو بھی چمک جائے تو ڈر جاتا ہوں

    مری عادت مجھے پاگل نہیں ہونے دیتی

    لوگ تو اب بھی سمجھتے ہیں کہ گھر جاتا ہوں

    میں نے اس شہر میں وہ ٹھوکریں کھائی ہیں کہ اب

    آنکھ بھی موند کے گزروں تو گزر جاتا ہوں

    اس لئے بھی مرا اعزاز پہ حق بنتا ہے

    سر جھکائے ہوئے جاتا ہوں جدھر جاتا ہوں

    اس قدر آپ کے بدلے ہوئے تیور ہیں کہ میں

    اپنی ہی چیز اٹھاتے ہوئے ڈر جاتا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    روشنی سانس ہی لے لے تو ٹھہر جاتا ہوں نعمان شوق

    مأخذ :
    • کتاب : Chandi Ka waraq (Pg. 151)
    • Author : Ahmad Kamal Parvazi
    • مطبع : Surkhwab Publication (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY