سب لہو جم گیا ابال کے بیچ

عارف امام

سب لہو جم گیا ابال کے بیچ

عارف امام

MORE BYعارف امام

    سب لہو جم گیا ابال کے بیچ

    کون یاد آ گیا وصال کے بیچ

    ایک وقفہ ہے زندگی بھر کا

    زخم کے اور اندمال کے بیچ

    آن بیٹھا ہے ایک اندیشہ

    گفتگو اور عرض حال کے بیچ

    تال دیتی ہے جب کبھی وحشت

    رقص کرتا ہوں میں خیال کے بیچ

    کبھی ماتم میان رقص کیا

    کبھی سجدہ کیا دھمال کے بیچ

    ایک پردہ ہے بے ثباتی کا

    آئینے اور ترے جمال کے بیچ

    اک برس ہو گیا اسے دیکھے

    اک صدی آ گئی ہے سال کے بیچ

    میرے دامن کو دھونے والا ہے

    ایک آنسو جو ہے رومال کے بیچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے