سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا

جرأت قلندر بخش

سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا

جرأت قلندر بخش

MORE BYجرأت قلندر بخش

    سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا

    سوچ ہے ہر دم یہی ہم کو کہ ہم نے کیا کیا

    وہ گیا اٹھ کر جدھر کو میں ادھر حیران سا

    اس کے جانے پر بھی کتنی دیر تک دیکھا کیا

    میری اور اس شوخ کی صاحب سلامت جو ہوئی

    صبر و طاقت نے کہا لو ہم نے تو مجرا کیا

    سیر گل کرتا تھا وہ اور آہ بیتابی سے میں

    ہر طرف گلشن میں جوں آب رواں دوڑا کیا

    جب تلک کرتے رہے مذکورہ اس کا مجھ سے لوگ

    جی میں کچھ سوچا کیا میں اور دل دھڑکا کیا

    درد دل کہنا مرا شاید کہ اس نے سن لیا

    ورنہ کیوں مجھ کو دھراتا ہے بھلا اچھا کیا

    دم بہ دم حسرت سے دیکھوں کیوں نہ سوئے چرخ میں

    اس نے اوروں کا کیا اس کو ہمیں جس کا کیا

    دل ملے پر بھی ملاپ ایسی جگہ ہوتے رہے

    جو ادھر تڑپا کیے ہم وہ ادھر تڑپا کیا

    مل گئے تھے ایک بار اس کے جو میرے لب سے لب

    عمر بھر ہونٹوں پہ اپنے میں زباں پھیرا کیا

    بس کہ ہے وہ شہرۂ آفاق اس کے واسطے

    یہ دل دیوانہ کس کس شخص سے جھگڑا کیا

    سوزش دل کیا کہوں میں جب تلک جیتا رہا

    ایک انگارا سا پہلو میں مرے دہکا کیا

    عشق بازی میں کہا جرأتؔ کو سب نے دیکھ کر

    یہ عزیز اپنی ہمیشہ جان پر کھیلا کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY