سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا

زہرا نگاہ

سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا

زہرا نگاہ

MORE BYزہرا نگاہ

    سفر خود رفتگی کا بھی عجب انداز تھا

    کہیں پر راہ بھولے تھے نہ رک کر دم لیا تھا

    زمیں پر گر رہے تھے چاند تارے جلدی جلدی

    اندھیرا گھر کی دیواروں سے اونچا ہو رہا تھا

    چلے چلتے تھے رہرو ایک آواز اخی پر

    جنوں تھا یا فسوں تھا کچھ تو تھا جو ہو رہا تھا

    میں اس دن تیری آمد کا نظارہ سوچتی تھی

    وہ دن جب تیرے جانے کے لیے رکنا پڑا تھا

    اسی حسن تعلق پر ورق لکھتے گئے لاکھ

    کرن سے روئے گل تک ایک پل کا رابطہ تھا

    بہت دن بعد زہراؔ تو نے کچھ غزلیں تو لکھیں

    نہ لکھنے کا کسی سے کیا کوئی وعدہ کیا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY