صحرا میں کوئی سایۂ دیوار تو دیکھو

جاذب قریشی

صحرا میں کوئی سایۂ دیوار تو دیکھو

جاذب قریشی

MORE BYجاذب قریشی

    صحرا میں کوئی سایۂ دیوار تو دیکھو

    اے ہم سفرو دھوپ کے اس پار تو دیکھو

    جلتا ہوں اندھیروں میں کہ چمکے کوئی چہرہ

    موسم ہیں عداوت کے مگر پیار تو دیکھو

    دفتر کی تھکن اوڑھ کے تم جس سے ملے ہو

    اس شخص کے تازہ لب و رخسار تو دیکھو

    کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں

    تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

    کل شام وہ تنہا تھا سمندر کے کنارے

    کیا سوچ رہے ہو کوئی اخبار تو دیکھو

    آنکھیں ہیں کہ زخمی ہیں بدن ہیں کہ شکستہ

    آشوب سفر ہوں مری رفتار تو دیکھو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY