سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا

فاطمہ حسن

سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا

فاطمہ حسن

MORE BY فاطمہ حسن

    سکون دل کے لیے عشق تو بہانہ تھا

    وگرنہ تھک کے کہیں تو ٹھہر ہی جانا تھا

    جو اضطراب کا موسم گزار آئیں ہیں

    وہ جانتے ہیں کہ وحشت کا کیا زمانہ تھا

    وہ جن کو شکوہ تھا اوروں سے ظلم سہنے کا

    خود ان کا اپنا بھی انداز جارحانہ تھا

    بہت دنوں سے مجھے انتظار شب بھی نہیں

    وہ رت گزر گئی ہر خواب جب سہانا تھا

    کب اس کی فتح کی خواہش کو جیت سکتی تھی

    میں وہ فریق ہوں جس کو کہ ہار جانا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY