سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں

کیف احمد صدیقی

سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں

کیف احمد صدیقی

MORE BYکیف احمد صدیقی

    سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں

    سائے راکھ بنے جاتے ہیں جیتے ہوئے درختوں میں

    آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سے

    دھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں

    خاموشی بھی خوف زدہ ہے آسیبی آوازوں سے

    سناٹے بھی کانپ رہے ہیں سہمے ہوئے درختوں میں

    تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے

    ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں

    آج تو سارے باغ میں خواب مرگ کا نشہ طاری ہے

    لیکن کوئی جاگ رہا ہے سوئے ہوئے درختوں میں

    کون مصیبت کے عام میں ساتھ کسی کا دیتا ہے

    چند پرندے چیخ رہے ہیں گرتے ہوئے درختوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY