تنہائی ملی مجھ کو ضرورت سے زیادہ

جمال اویسی

تنہائی ملی مجھ کو ضرورت سے زیادہ

جمال اویسی

MORE BYجمال اویسی

    تنہائی ملی مجھ کو ضرورت سے زیادہ

    پڑھتی ہیں کتابیں مجھے وحشت سے زیادہ

    جو مانگ رہے ہو وہ مرے بس میں نہیں ہے

    درخواست تمہاری ہے ضرورت سے زیادہ

    ممکن ہے مری سانس اکھڑ جائے کسی پل

    یہ راستہ ہے میری مسافت سے زیادہ

    آئے ہیں پڑوسی مرے گھر لے کے شکایت

    باتوں میں وہ تلخی ہے کہ نفرت سے زیادہ

    یہ اطلس و کم خواب دکھاتے ہو عبث تم

    شاعر کو نہیں چاہیئے شہرت سے زیادہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY