Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

علی مزمل

تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

علی مزمل

MORE BYعلی مزمل

    تصور منکشف از بام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

    عطائے کشف کے اتمام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

    زمین و عرش کے باہم تعلق کے تناظر میں

    زمین و عرش کا ادغام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

    کبھی سب کر گزرنے کا جنوں بے چین رکھتا ہے

    کبھی یوں بھی ہوا سب کام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

    محبت ارتباط قلب سے مشروط ہوتی ہے

    یقین و ربط کے ابہام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

    کہاں مجھ کو میسر مصر کا بازار آئے گا

    خود اپنی ذات میں نیلام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

    علیؔ بحر محبت کا شناور ہوں خدا شاہد

    وفا کے نام پہ الزام ہو جانے سے ڈرتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے