تیرے حصے کے بھی صدمات اٹھا لیتا ہوں

احمد کامران

تیرے حصے کے بھی صدمات اٹھا لیتا ہوں

احمد کامران

MORE BYاحمد کامران

    تیرے حصے کے بھی صدمات اٹھا لیتا ہوں

    آ تجھے آنکھوں پہ اے رات اٹھا لیتا ہوں

    عام سا شخص بچے گا تو اگر میں تیرے

    خال و خد سے یہ طلسمات اٹھا لیتا ہوں

    تو نے اے عشق یہ سوچا کہ ترا کیا ہوگا

    تیرے سر سے میں اگر ہاتھ اٹھا لیتا ہوں

    یہ اگر جنگ محبت ہے مرے یار تو پھر

    ایسا کرتا ہوں کہ میں مات اٹھا لیتا ہوں

    اس کے لہجے میں دراڑ آتی ہے اور میں اسی وقت

    خواب رکھ دیتا ہوں خدشات اٹھا لیتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY