ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی

جگر مراد آبادی

ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی

جگر مراد آبادی

MORE BY جگر مراد آبادی

    ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی

    ہزار بار نگہ کی مگر کبھی نہ ہوئی

    تری خوشی سے اگر غم میں بھی خوشی نہ ہوئی

    وہ زندگی تو محبت کی زندگی نہ ہوئی

    کہاں وہ شوخ ملاقات خود سے بھی نہ ہوئی

    بس ایک بار ہوئی اور پھر کبھی نہ ہوئی

    وہ ہم ہیں اہل محبت کہ جان سے دل سے

    بہت بخار اٹھے آنکھ شبنمی نہ ہوئی

    ٹھہر ٹھہر دل بے تاب پیار تو کر لوں

    اب اس کے بعد ملاقات پھر ہوئی نہ ہوئی

    مرے خیال سے بھی آہ مجھ کو بعد رہا

    ہزار طرح سے چاہا برابری نہ ہوئی

    ہم اپنی رندی و طاعت پہ خاک ناز کریں

    قبول حضرت سلطاں ہوئی ہوئی نہ ہوئی

    کوئی بڑھے نہ بڑھے ہم تو جان دیتے ہیں

    پھر ایسی چشم توجہ ہوئی ہوئی نہ ہوئی

    تمام حرف و حکایت تمام دیدہ و دل

    اس اہتمام پہ بھی شرح عاشقی نہ ہوئی

    فسردہ خاطرئ عشق اے معاذ اللہ

    خیال یار سے بھی کچھ شگفتگی نہ ہوئی

    تری نگاہ کرم کو بھی آزما دیکھا

    اذیتوں میں نہ ہونی تھی کچھ کمی نہ ہوئی

    کسی کی مست نگاہی نے ہاتھ تھام لیا

    شریک حال جہاں میری بے خودی نہ ہوئی

    صبا یہ ان سے ہمارا پیام کہہ دینا

    گئے ہو جب سے یہاں صبح و شام ہی نہ ہوئی

    وہ کچھ سہی نہ سہی پھر بھی زاہد ناداں

    بڑے بڑوں سے محبت میں کافری نہ ہوئی

    ادھر سے بھی ہے سوا کچھ ادھر کی مجبوری

    کہ ہم نے آہ تو کی ان سے آہ بھی نہ ہوئی

    خیال یار سلامت تجھے خدا رکھے

    ترے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی

    گئے تھے ہم بھی جگرؔ جلوہ گاہ جاناں میں

    وہ پوچھتے ہی رہے ہم سے بات بھی نہ ہوئی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ششر پارکھی

    ششر پارکھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY