ترے خلوص کے قصے سنا رہا ہوں میں

سرفراز نواز

ترے خلوص کے قصے سنا رہا ہوں میں

سرفراز نواز

MORE BYسرفراز نواز

    ترے خلوص کے قصے سنا رہا ہوں میں

    پرانا قرض ہے اب تک چکا رہا ہوں میں

    خدا کرے کہ وہی بات اس کے دل میں ہو

    جو بات کہنے کی ہمت جٹا رہا ہوں میں

    سفر کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا میرا

    رکے جو پاؤں تو کاندھوں پہ جا رہا ہوں میں

    سماعتوں کے سبھی در یہاں مقفل ہیں

    نہ جانے کب سے صدائیں لگا رہا ہوں میں

    لگا ہوں آج حفاظت میں خود چراغوں کی

    کئی دنوں تو مخالف ہوا رہا ہوں میں

    یہ عقل، ہوش، نظر، خواب، لمس، گویائی

    لو آج داؤ پہ سب کچھ لگا رہا ہوں میں

    کہ جب بھی چاہیں انہیں ڈھونڈ لیں مری آنکھیں

    اس احتیاط سے منظر سجا رہا ہوں میں

    مرے بغیر کوئی تم کو ڈھونڈتا کیسے

    تمہیں پتہ ہے تمہارا پتہ رہا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے