تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

حبیب جالب

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

حبیب جالب

MORE BYحبیب جالب

    تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

    اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

    کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ

    وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا

    آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے

    کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا

    اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو

    اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا

    چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے

    تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا

    RECITATIONS

    حبیب جالب

    حبیب جالب

    حبیب جالب

    تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا حبیب جالب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY