تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں

اعتبار ساجد

تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    تمہیں خیال ذات ہے شعور ذات ہی نہیں

    خطا معاف یہ تمہارے بس کی بات ہی نہیں

    غزل فضا بھی ڈھونڈتی ہے اپنے خاص رنگ کی

    ہمارا مسئلہ فقط قلم دوات ہی نہیں

    ہماری ساعتوں کے حصہ دار اور لوگ ہیں

    ہمارے سامنے فقط ہماری ذات ہی نہیں

    ورق ورق پہ ڈائری میں آنسوؤں کا نم بھی ہے

    یہ صرف بارشوں سے بھیگے کاغذات ہی نہیں

    کہانیوں کا روپ دے کے ہم جنہیں سنا سکیں

    ہماری زندگی میں ایسے واقعات ہی نہیں

    کسی کا نام آ گیا تھا یوں ہی درمیان میں

    اب اس کا ذکر کیا کریں جب ایسی بات ہی نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY