اس کی سوچیں اور اس کی گفتگو میری طرح

عزیز نبیل

اس کی سوچیں اور اس کی گفتگو میری طرح

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    اس کی سوچیں اور اس کی گفتگو میری طرح

    وہ سنہرا آدمی تھا ہو بہ ہو میری طرح

    ایک برگ بے شجر اور اک صدائے بازگشت

    دونوں آوارہ پھرے ہیں کو بہ کو میری طرح

    چاند تارے اک دیا اور رات کا کومل بدن

    صبح دم بکھرے پڑے تھے چار سو میری طرح

    لطف آوے گا بہت اے ساکنان قصر ناز

    بے در و دیوار بھی رہیو کبھو میری طرح

    دیکھنا پھر لذت کیفیت تشنہ لبی

    توڑ دے پہلے سبھی جام و سبو میری طرح

    اک پیادہ سر کرے گا سارا میدان جدل

    شرط ہے جوش جنوں اور جستجو میری طرح

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY