اس کو تکتے بھی نہیں تھے پہلے

محمود شام

اس کو تکتے بھی نہیں تھے پہلے

محمود شام

MORE BY محمود شام

    اس کو تکتے بھی نہیں تھے پہلے

    ہم بھی خوددار تھے کتنے پہلے

    اس کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا

    ہم بہت دور تھے خود سے پہلے

    دل نظر آتے ہیں اب آنکھوں میں

    کتنے گہرے تھے یہ چشمے پہلے

    کھوئے رہتے ہیں اب اس کی دھن میں

    جس کو تکتے نہ تھے پہلے پہلے

    ہم کو پہچان لیا کرتے تھے

    یہ ترے شہر کے رستے پہلے

    اب اجالوں میں بھٹک جاتے ہیں

    وہ سمجھاتے تھے اندھیرے پہلے

    اب نہ الفاظ نہ احساس نہ یاد

    اتنے مفلس نہ ہوئے تھے پہلے

    رنگ کے جال میں آتے نہ کبھی

    پاس سے دیکھ جو لیتے پہلے

    گرم ہنگامۂ کاغذ ہے یہاں

    بے مہک پھول کہاں تھے پہلے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY