اس رستے پر جاتے دیکھا کوئی نہیں ہے

صائمہ اسما

اس رستے پر جاتے دیکھا کوئی نہیں ہے

صائمہ اسما

MORE BY صائمہ اسما

    اس رستے پر جاتے دیکھا کوئی نہیں ہے

    گھر ہے اک اور اس میں رہتا کوئی نہیں ہے

    کبھی کبھی تو اچھا خاصا چلتے چلتے

    یوں لگتا ہے آگے رستہ کوئی نہیں ہے

    ایک سہیلی باغ میں بیٹھی روتی جائے

    کہتی جائے ساتھی میرا کوئی نہیں ہے

    مہر و وفا قربانی قصوں کی ہیں باتیں

    سچی بات تو یہ ہے ایسا کوئی نہیں ہے

    دیکھ کے تم کو اک الجھن میں پڑ جاتی ہوں

    میں کہتی تھی اتنا اچھا کوئی نہیں ہے

    اس کی وفاداری مشکوک ٹھہر جاتی ہے

    کار وفا میں دشمن جس کا کوئی نہیں ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Gul-e-Dupahar (Pg. 69)
    • Author : Saima Asma
    • مطبع : Idarah Batool, Sayyed Palaza, Firozpur Road, Lahore (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY