وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں

پروین شاکر

وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں

پروین شاکر

MORE BY پروین شاکر

    وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں

    اس کو ہم کیا کھوئیں گے جس کو کبھی پایا نہیں

    زندگی جتنی بھی ہے اب مستقل صحرا میں ہے

    اور اس صحرا میں تیرا دور تک سایا نہیں

    میری قسمت میں فقط درد تہہ ساغر ہی ہے

    اول شب جام میری سمت وہ لایا نہیں

    تیری آنکھوں کا بھی کچھ ہلکا گلابی رنگ تھا

    ذہن نے میرے بھی اب کے دل کو سمجھایا نہیں

    کان بھی خالی ہیں میرے اور دونوں ہاتھ بھی

    اب کے فصل گل نے مجھ کو پھول پہنایا نہیں

    مآخذ:

    • Book: kulliyaat-e-maahe tamaam(kaf-e-aaiinaa) (Pg. 41)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites