وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا

حسیب سوز

وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا

حسیب سوز

MORE BYحسیب سوز

    وہ ایک رات کی گردش میں اتنا ہار گیا

    لباس پہنے رہا اور بدن اتار گیا

    حسب نسب بھی کرائے پہ لوگ لانے لگے

    ہمارے ہاتھ سے اب یہ بھی کاروبار گیا

    اسے قریب سے دیکھا تو کچھ شفا پائی

    کئی برس میں مرے جسم سے بخار گیا

    تمہاری جیت کا مطلب ہے جنگ پھر ہوگی

    ہماری ہار کا مطلب ہے انتشار گیا

    تو ایک سال میں اک سانس بھی نہ جی پایا

    میں ایک سجدے میں صدیاں کئی گزار گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY