وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے

فنا نظامی کانپوری

وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے

فنا نظامی کانپوری

MORE BYفنا نظامی کانپوری

    وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے

    جس سے تری نگاہ ملے یا نظر پھرے

    راہ جنوں میں یوں تو ہیں لاکھوں ہی سرپھرے

    یارب مری طرح نہ کوئی عمر بھر پھرے

    رفتار یار کا اگر انداز بھول جائے

    گلشن میں خاک اڑاتی نسیم سحر پھرے

    ساقی کو بھی سکھاتے ہیں آداب میکشی

    ملتے ہیں مے کدہ میں کچھ ایسے بھی سرپھرے

    ترک وطن کے بعد ہی قدر وطن ہوئی

    برسوں مری نگاہ میں دیوار و در پھرے

    رہ جائے چند روز جو بیمار غم کے پاس

    خود اپنا دل دبائے ہوئے چارہ گر پھرے

    میں اپنا رقص جام تجھے بھی دکھاؤں گا

    اے گردش زمانہ مرے دن اگر پھرے

    میری نگاہ میں تو غزل ہے اسی کا نام

    جس کی رگوں میں دوڑتا خون جگر پھرے

    قید غم حیات بھی کیا چیز ہے فناؔ

    راہ فرار مل نہ سکی عمر بھر پھرے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ خانماں خراب نہ کیوں در بدر پھرے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY