یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

اعتبار ساجد

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

    اب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

    کسی دہلیز پر آنکھوں کے یہ روشن دیئے رکھ کر

    ضمیر صبح کو جھنجھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

    جدھر ہم جا رہے ہیں اس طرف ٹوٹا ہوا پل ہے

    یہ باگیں اس سے پہلے موڑ دینا چاہتے ہیں ہم

    یہ نوبت کل جو آنی ہے تو شرمندہ نہیں ہوں گے

    مراسم احتیاطا توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

    عجب دیوانگی ہے جس کے ہم سائے میں بیٹھے ہیں

    اسی دیوار سے سر پھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

    تعلق کرچیوں کی شکل میں بکھرا تو ہے پھر بھی

    شکستہ آئینوں کو جوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY