یہ جذبۂ طلب تو مرا مر نہ جائے گا

حیات لکھنوی

یہ جذبۂ طلب تو مرا مر نہ جائے گا

حیات لکھنوی

MORE BYحیات لکھنوی

    یہ جذبۂ طلب تو مرا مر نہ جائے گا

    تم بھی اگر ملوگے تو جی بھر نہ جائے گا

    یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے

    سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا

    جس زاویے سے چاہو مری سمت پھینک دو

    مجھ سے ملے بغیر یہ پتھر نہ جائے گا

    دم بھر کے واسطے ہیں بہاریں سمیٹ لو

    ویرانیوں کو چھوڑ کے منظر نہ جائے گا

    یوں خوش ہے اپنے گھر کی فضاؤں کو چھوڑ کر

    جیسے وہ زندگی میں کبھی گھر نہ جائے گا

    اس کو بلندیوں میں مسلسل اچھالیے

    لیکن وہ اپنی سطح سے اوپر نہ جائے گا

    شہر مراد مل بھی گیا اب تو کیا حیاتؔ

    مایوسیوں کا دل سے کبھی ڈر نہ جائے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY