یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں

اعتبار ساجد

یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    یہ ٹھیک ہے کہ بہت وحشتیں بھی ٹھیک نہیں

    مگر ہماری ذرا عادتیں بھی ٹھیک نہیں

    اگر ملو تو کھلے دل کے ساتھ ہم سے ملو

    کہ رسمی رسمی سی یہ چاہتیں بھی ٹھیک نہیں

    تعلقات میں گہرائیاں تو اچھی ہیں

    کسی سے اتنی مگر قربتیں بھی ٹھیک نہیں

    دل و دماغ سے گھایل ہیں تیرے ہجر نصیب

    شکستہ در بھی ہیں ان کی چھتیں بھی ٹھیک نہیں

    قلم اٹھا کے چلو حال دل ہی لکھ ڈالو

    کہ رات دن کی بہت فرقتیں بھی ٹھیک نہیں

    تم اعتبارؔ پریشاں بھی ان دنوں ہو بہت

    دکھائی پڑتا ہے کچھ صحبتیں بھی ٹھیک نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY