یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

زہرا نگاہ

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

زہرا نگاہ

MORE BYزہرا نگاہ

    یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

    یہ دل دل ناداں سہی خوددار بہت ہے

    دیوانوں کو اب وسعت صحرا نہیں درکار

    وحشت کے لیے سایۂ دیوار بہت ہے

    بجتا ہے گلی کوچوں میں نقارۂ الزام

    ملزم کہ خموشی کا وفادار بہت ہے

    جب حسن تکلم پہ کڑا وقت پڑے تو

    اور کچھ بھی نہ باقی ہو تو تکرار بہت ہے

    خود آئینہ گر آئینہ چھوڑے تو نظر آئے

    دہکا ہوا ہر شعلۂ رخسار بہت ہے

    منصف کے لیے اذن سماعت پہ ہیں پہرے

    اور عدل کی زنجیر میں جھنکار بہت ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY