زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے

اقبال سہیل

زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے

اقبال سہیل

MORE BYاقبال سہیل

    زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے

    تجلی گاہ ایمن ہے دل دیوانہ برسوں سے

    کچھ ایسا ہے فریب نرگس مستانہ برسوں سے

    کہ سب بھولے ہوئے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے

    وہ چشم فتنہ گر ہے ساقئ مے خانہ برسوں سے

    کہ باہم لڑ رہے ہیں شیشہ و پیمانہ برسوں سے

    نہ اب منصور باقی ہے نہ وہ دار و رسن لیکن

    فضا میں گونجتا ہے نعرۂ مستانہ برسوں سے

    چمن کے نونہال اس خاک میں پھولیں پھلیں کیونکر

    یہاں چھایا ہوا ہے سبزۂ بیگانہ برسوں سے

    یہ آنکھیں مدتوں سے خوگر برق تجلی ہیں

    نشیمن بجلیوں کا ہے مرا کاشانہ برسوں سے

    ترے قرباں ادھر بھی ایک جھونکا ابر رحمت کا

    جبینوں میں گرہ ہے سجدۂ شکرانہ برسوں سے

    سہیلؔ اب کس کو سجدہ کیجئے حیرت کا عالم ہے

    جبیں خود بن گئی سنگ در جانانہ برسوں سے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    زبانوں پر نہیں اب طور کا فسانہ برسوں سے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY