زمانہ ہے کہ مجھے روز شام ڈستا ہے

منموہن تلخ

زمانہ ہے کہ مجھے روز شام ڈستا ہے

منموہن تلخ

MORE BYمنموہن تلخ

    زمانہ ہے کہ مجھے روز شام ڈستا ہے

    مگر یہ دل ہے کہ پہلے سے اور ہنستا ہے

    تو یہ بتا انہیں کس نے بنا دیا ایسا

    کہ تیرے سامنے ہر کوئی دست بستہ ہے

    میں اس کو چھوڑ کے اب جاؤں تو کہاں جاؤں

    یہی تو ایک میری زندگی کا رستہ ہے

    عجیب بات ہے لگتا ہے یوں ہر اک چہرہ

    کہ بولنے کے لیے جس طرح ترستا ہے

    جو سکھ کا سانس ملے عمر بھر کے بدلے بھی

    تو میری مان کہ سودا یہ پھر بھی سستا ہے

    سب ایک دوسرے کو اب تو یوں بھی جانتے ہیں

    کہ ایک ایک کا اندر سے حال خستہ ہے

    شکایت اور تو کچھ بھی نہیں ان آنکھوں سے

    ذرا سی بات پہ پانی بہت برستا ہے

    کراہتا بھی ہے ہر آن جو بھی زندہ ہے

    اور اپنے گرد شکنجہ بھی خود ہی کستا ہے

    ہمارا کل کوئی پاتال میں رکھ آیا ہے

    سمندروں میں سے کہتے ہیں کوئی رستہ ہے

    کسی طرح بھی تو سمجھا سکے نہ ہم اس کو

    زمانے سے یہ کہو خود پہ تلخؔ ہنستا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY