Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مصنف : افسر عباس زیدی

اشاعت : 001

ناشر : ماورا پبلیشرز، لاہور

سن اشاعت : 2024

زبان : اردو

موضوعات : شاعری

صفحات : 872

ISBN نمبر /ISSN نمبر : 978-1-7398680-5-5

معاون : سید قیصرعباس زیدی

اذان وجدان
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: ممتاز منقبتی شاعر اور خطیب تھے جنہوں نے لاہور کی مذہبی و ادبی محفلوں میں اپنے قطعات اور مناقب کے ذریعے ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔

افسر عباس زیدی 2 فروری 1928 کو دہلی کے قدیم محلے سوئی والاں (جامع مسجد کے اطراف) میں مولانا اکبر عباس زیدی اور امیر بانو بیگم کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور مذہبی روایت رکھنے والے خاندان سے تھا۔ ابتدائی تعلیم فتح پوری مسلم ہائی اسکول دہلی سے حاصل کی اور 1945 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں وہ اینگلو عربک کالج اجمیری گیٹ میں زیر تعلیم تھے کہ برصغیر کے سیاسی حالات اور معاشی ذمہ داریوں کے باعث محکمہ ٹیلی فون و ٹیلی گراف میں ملازمت اختیار کر لی۔

تقسیمِ ہند کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے ملازمت کے ساتھ تعلیم جاری رکھی۔ 1954 میں انہوں نے University of the Punjab سے فارسی میں منشی فاضل کی سند حاصل کی، بعد ازاں ایف اے، بی اے اور اردو ادب میں ایم اے کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔

افسر عباس زیدی نے شاعری کا آغاز غزل سے کیا لیکن جلد ہی رثائی اور منقبتی شاعری کی طرف متوجہ ہو گئے۔ لاہور کی مذہبی محفلوں میں ان کے قطعات اور مناقب کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی اور انہیں پنجاب بھر کی محافل میں مدعو کیا جاتا تھا۔ اہلِ بیت کی مدح میں کہے گئے ان کے قطعات عوام و خواص میں بے حد مقبول ہوئے اور انہیں "افسر الشعراء" کے لقب سے بھی یاد کیا جانے لگا۔

ان کے شعری مجموعوں میں ہدیۂ تبریک، خراجِ عقیدت، احادیثِ کساء (منظوم)، محرابِ حرم، قرطاس و قلم، محشرِ خاموش، نقطۂ پرکارِ حق اور اذنِ وجدان شامل ہیں۔ ان میں محشرِ خاموش کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔ وہ ایک عرصے تک Imamia Mission Pakistan کے سیکرٹری رہے اور اس کے رسالے پیامِ محفل کی ادارت بھی کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے عربی اور فارسی کے متعدد علمی متون کے اردو تراجم بھی کیے۔

افسر عباس زیدی کی شاعری کا مرکزی موضوع حضرت علی اور اہلِ بیت سے عقیدت و محبت تھا۔

وفات: وہاب اشرفی کا انتقال 06 اگست 2004ء کو لاہور میں ہوا۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے