aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: نامور طبیب، افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر اور ہمہ جہت ادبی شخصیت
کوثر چاندپوری کی پیدائش 18 اگست 1900 کو ضلع بجنور (اترپردیش) کے شہر چاندپور میں ہوئی۔ ان کے والد حکیم سید مظفر علی اور دادا حکیم سید منصور علی اپنے عہد کے نامور طبیب تھے۔ خاندان علمی، دینی اور طبی روایت کا حامل تھا۔ ابتدائی تعلیم دینیات سے ہوئی، پھر فارسی و اردو کی تعلیم حاصل کی۔ 1914 میں بھوپال جا کر آصفیہ طبیہ کالج میں داخلہ لیا اور 1918 میں طبیبِ کامل کی سند حاصل کی۔ بعد ازاں وہیں طبابت شروع کی۔ 1955 میں ریاست بھوپال میں افسرالاطبا کے منصب پر فائز ہوئے۔ 1965 میں حکیم عبدالحمید کی دعوت پر دہلی منتقل ہوئے اور ہمدرد نرسنگ ہوم میں میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنی محنت، دیانت اور خلوص سے مریضوں میں بے حد مقبول رہے۔
طالب علمی کے زمانے میں شاعری کا شوق پیدا ہوا۔ عروض کی تربیت محمد زکریا مائل سے حاصل کی اور جمیل احمد سہسوانی، مانی جائسی، اثر لکھنوی، عزیز لکھنوی، ہادی مچھلی شہری اور سیماب اکبرآبادی سے اصلاح لی۔ تاہم انہوں نے صرف شاعری پر اکتفا نہ کیا بلکہ نثر کی طرف متوجہ ہوئے۔ 1917 سے انشائیہ نگاری شروع کی اور نگار، نیرنگ خیال، ادبی دنیا اور شاہکار جیسے رسائل میں انشائیے شائع ہوئے۔
بعد ازاں افسانہ نگاری کی طرف آئے۔ ان کا پہلا افسانہ “فضائے برشگال کا ایک تیر” 1924 میں رسالہ الکمال لاہور میں شائع ہوا۔ 1926 میں افسانوی مجموعہ “دل گداز افسانے” منظر عام پر آیا جسے بے حد پذیرائی ملی اور اسے بھوپال کا پہلا افسانوی مجموعہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کے تیرہ مزید افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ قریب 23 برس تک آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے اور 75 سے زائد کہانیاں نشر ہوئیں۔
انہوں نے ناول نگاری میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا اور اردو ادب کو 17 ناول دیے۔ بچوں کے لیے 25 سے زائد کتابیں لکھیں جو بے حد مقبول ہوئیں۔ ان کی تحریروں میں دیہی زندگی، معاشرتی مسائل، انسانی جذبات اور اصلاحی پہلو نمایاں ہیں۔ زبان شگفتہ، سادہ اور محاوراتی ہے۔ طبی پس منظر کے باعث بعض افسانوں میں طبی نکات بھی ملتے ہیں۔
ان کی اہم تصانیف میں دلگداز افسانے، دنیا کی حور، ماہ و انجم، دلچسپ افسانے، گل و لالہ، شب نامچے، اشک و شرر، شعلۂ سنگ، رات کا سورج، آوازوں کی صلیب، اطبائے عہد مغلیہ، محبت اور سلطنت، شام غزل، پتھر کا گلاب، مرجھائی کلیاں، راکھ اور کلیاں، دیدۂ بینا، کارواں ہمارا اور بچوں کی متعدد کہانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے تاریخ، سوانح، طنز و مزاح، تنقید و تحقیق اور رپورتاژ میں بھی طبع آزمائی کی۔ برصغیر کے تقریباً تمام اہم رسائل میں ان کی تخلیقات شائع ہوئیں۔
وفات: 13 اکتوبر 1988 کو 88 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔