Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: عظیم صوفی بزرگ، مرشدِ اکابرِ دیوبند، تحریکِ آزادیِ ہند (معرکہِ شاملی ۱۸۵۷ء) کے امیر اور ’’مہاجر مکی‘‘ کے لقب سے مشہور

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی 22 صفر 1233ھ مطابق 1817ء کو نانوتہ، ضلع سہارنپور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ آپ نسباً فاروقی تھے اور آپ کا سلسلۂ نسب حضرت ابراہیم بن ادہم سے جا ملتا ہے۔ والد کا نام محمد امین تھا۔ کم عمری ہی میں والدہ کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد آپ نے ذاتی شوق اور غیر معمولی ذوقِ علم کے تحت فارسی، عربی اور دینی علوم کی تحصیل شروع کی۔ بعد ازاں دہلی جا کر اس وقت کے ممتاز علما سے حدیث، تفسیر اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔

تصوف کی راہ میں آپ کو حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانوی سے خصوصی فیض حاصل ہوا۔ انہی کے ہاتھ پر بیعت کی اور طویل مجاہدات و ریاضت کے بعد خلافت سے سرفراز ہوئے۔ آپ سلسلۂ چشتیہ صابریہ امدادیہ کے عظیم شیخ مانے جاتے ہیں۔ مرشدوں کے مرشد کہلانے والے حاجی امداد اللہ نے ظاہری علوم کے ساتھ باطنی اصلاح اور تزکیۂ نفس پر بھی خاص توجہ دی۔

1844ء میں آپ حج بیت اللہ کے لیے حجاز مقدس تشریف لے گئے۔ واپسی کے بعد تھانہ بھون میں رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا، جہاں ہزاروں لوگ آپ سے وابستہ ہوئے۔ آپ کے مریدین اور خلفا میں مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا اشرف علی تھانوی، شیخ الہند محمود الحسن، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا محمد الیاس کاندھلوی جیسے اکابر علما شامل ہیں۔

1857ء کی جنگِ آزادی میں بھی آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ شاملی کے معرکے میں مجاہدین کی قیادت اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں آپ کے رفقا شریک رہے۔ انگریز حکومت کے مظالم اور گرفتاریوں کے بعد آپ نے 1859ء میں ہندوستان سے ہجرت کی اور مکہ مکرمہ میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ اسی نسبت سے ’’مہاجر مکی‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔

مکہ مکرمہ میں آپ کی خانقاہ اہلِ علم و تصوف کا مرکز بن گئی۔ مختلف ممالک کے علما، مشائخ اور طالبانِ حق آپ سے روحانی فیض حاصل کرنے آتے تھے۔ آپ مثنوی مولانا روم سے خاص شغف رکھتے تھے اور آخری عمر تک درسِ مثنوی اور اصلاحِ باطن کا سلسلہ جاری رکھا۔

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے تصوف، اصلاحِ نفس اور دینی موضوعات پر متعدد کتابیں تصنیف کیں، جن میں ’’ضیاء القلوب‘‘، ’’گلزارِ معرفت‘‘، ’’مرقوماتِ امدادیہ‘‘، ’’مکتوباتِ امدادیہ‘‘، ’’فیصلۂ ہفت مسئلہ‘‘، ’’جہادِ اکبر‘‘ اور ’’دردنامہ‘‘ خاص طور پر معروف ہیں۔ ان کی تحریروں میں سادگی، روحانیت اور اصلاحی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔

آپ کی شخصیت انیسویں صدی کی دینی، تعلیمی اور اصلاحی تحریکوں کا سرچشمہ سمجھی جاتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے قیام، تبلیغی و اصلاحی تحریکوں اور روحانی تربیت کے میدان میں آپ کے فیض کا اثر نمایاں طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔

وفات: انتقال 1317ھ مطابق 1899ء کو مکہ میں ہوا۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے