Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: مقبولِ عام ادب کے ممتاز ناول نگار، زود نویس، افسانہ نگار، مدیر

اردو ادب کی تاریخ میں مقبولِ عام ادب (Popular Literature) ہمیشہ سے قارئین کی توجہ کا مرکز رہا ہے، لیکن ناقدین کی سرد مہری کا شکار رہا۔ اسی صنف کے ایک ایسے ہی قد آور قلمکار عادل رشید تھے، جن کے ناول ایک دور میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے، مگر وقت کی گرد نے ان کے فن کو وہ مقام نہ دیا جس کے وہ مستحق تھے۔

عادل رشید کا اصل نام سید منظور الحق تھا۔ وہ 20 نومبر 1920 کو اپنے ننھیال نارہ (ضلع الہ آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک جاگیردار اور علمی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد سید محمد فضل الحق علاقے کے متمول زمیندار تھے جبکہ دادا اور پردادا ماہر حکیم تھے۔ عادل رشید کی والدہ امۃ الفاطمہ انہیں ادیب یا بیرسٹر بنانا چاہتی تھیں، لیکن جب عادل محض 8 برس کے تھے تو وہ انتقال کر گئیں۔ قدرت نے والدہ کی یہ تمنا پوری کی اور عادل رشید اردو کے ایک عظیم قلمکار کے طور پر ابھرے۔

عادل رشید نے محض 15 سال کی عمر میں اپنا پہلا افسانہ ’قرض‘ تحریر کیا جو کانپور کے رسالے ’مستورات‘ میں شائع ہوا۔ ابتدا میں وہ ’سید محمد منظور الحق میئوی‘ کے نام سے لکھتے تھے، بعد ازاں شاعری میں ’عادل‘ تخلص اختیار کیا اور پھر عادل رشید کے نام سے شہرت پائی۔ ان کی زندگی جدوجہد سے عبارت رہی؛ کم عمری میں والدین کی جدائی، گھریلو حالات کی تبدیلی اور معاش کی تلاش انہیں دہلی اور پھر ممبئی لے گئی۔

ممبئی میں انہوں نے فلمی کہانی کار کے طور پر سخت محنت کی۔ اگرچہ انہیں اے آر کاردار جیسے فلمسازوں کے جھوٹے وعدوں کے باعث فاقہ کشی بھی کرنی پڑی، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ وہ ’شاہد‘ اور ’حجاب‘ جیسے معتبر رسائل کے مدیر بھی رہے۔ ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو دوسروں کی مدد کرنا تھا۔ انہوں نے ہاجرہ مسرور جیسے نامور ادیبوں کو متعارف کرایا اور کرشن چندر جیسے دوستوں کی معاشی مدد کے لیے اپنے کام سے دستبردار ہوئے۔

عادل رشید ایک زود نویس ادیب تھے۔ انہوں نے لگ بھگ 150 ناول، متعدد افسانے اور تذکرے لکھے۔ ان کا پہلا ناول ’میر صاحب‘ (1944) بے حد مقبول ہوا۔ ان کے دیگر مشہور ناولوں میں ’لرزتے آنسو‘، ’دلہن‘، ’سشما‘، اور ’چودھویں کا چاند‘ شامل ہیں۔ ناولوں کے علاوہ ان کی اہم خدمات میں شامل ہیں:

رپورتاژ: ’خزاں کے پھول‘ (1949)، جو ادبی کانفرنسوں کی ایک اہم دستاویز ہے۔

تذکرہ نگاری: ’فلمی مہرے‘، جس میں 44 فلمی شخصیات (دلیپ کمار، نرگس، راج کپور وغیرہ) کے خاکے اور حالات درج ہیں۔

خاکہ نگاری: ’آئیے‘ کے نام سے لکھے گئے خاکے۔

بچوں کا ادب: بچوں کے لیے ’چوہوں کی حکومت‘ اور ’ایران کی شہزادی‘ جیسی کہانیاں۔

عادل رشید کا اسلوب سادہ مگر پرکشش تھا، اسی لیے ان کے ناول نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان میں بھی بے حد مقبول تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے بھی وابستہ رہے اور سماجی حقائق کو اپنا موضوع بنایا۔

وفات: 3 جنوری 1972 کو ممبئی کے ناناوتی ہسپتال میں انتقال ہوا۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے