Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اردو کی ترقی کے لئے اپنی زندگی کو وقف کردیا تھا۔ ان کی زبان کا کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جو اردو کی فکر سے خالی ہو۔ یہ ان کی خدمات کا اعتراف ہی ہے کہ وہ ہر جگہ بابائے اردو کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

عبدالحق 1870ء میں ہاپوڑ ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مزید تعلیم کے لیے محمڈن کالج علی گڑھ بھیجے گئے۔ یہاں ا کی صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ سر سید تک رسائی تھی۔ اس ذات گرامی سے براہ راست فیض اٹھانے کا موقع ملا۔ یہیں مولانا حالیؔ اور محسن الملک سے بھی نیاز حاصل ہوا۔ سرسید کے صاحب زادے جسٹس محمود سے بھی ملاقات تھی۔ سرسید نے تصنیف و تالیف کا کچھ کام عبدالحق کے سپرد بھی کیا اس طرح لکھنے پڑھنے کی پہلی تربیت اسی مرد بزرگ کے ہاتھوں ہوئی۔

تعلیم سے فارغ ہو کر عبدالحق تلاش معاش میں حیدرآباد چلے گئے اور ایک اسکول میں مدرس کی ملازمت قبول کر لی۔ آخر ترقی پاکر مدارس کے انسپکٹر مقرر ہوئے۔ اسی زمانے میں انجمن ترقی اردو کے سکریٹری منتخب ہوئے۔ 1917ء میں عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ ترجمہ سے مختصر عرصے منسلک رہے۔ آخر اورنگ آباد کالج کے پرنسپل ہوگئے۔ اب انہیں انجمن ترقی اردو کو مستحکم کرنے کا موقع ملا۔ اسی کے ساتھ ہی تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رہا۔ آخر میں عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے صدر ہوگئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد دہلی آگئے اور اردو نیز انجمن ترقی اردو کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہوگئے۔ ملک تقسیم ہوگیا تو کراچی چلے گئے۔ اور وہاں بھی اردو کے فروغ کی کوشش میں لگے رہے۔ آخر وہیں 1961ء میں وفات پائی۔ بابائے اردو کی خدمت کے اعتراف میں الہ آباد یونیورسٹی نے 1937ء میں انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی۔

بابائے اردو مولوی عبدالحق کا یہ کارنامہ قابل قدر ہے کہ قدیم اردو ادب کا جو سرمایہ مخطوطات کی شکل میں صندوقچوں اور الماریوں میں بند تھا اور جس کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ تھا مولوی صاحب نے اسے ترتیب دے کر شائع کیا اور برباد ہونے سے بچا لیا۔ ان کتابوں پر مولوی صاحب نے مقدمے لکھے، ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مصنفین کے حالات زندگی دریافت کر کے ہم تک پہنچائے، ان تصانیف کے عہد کی خصوصیات واضح کیں اور اردو تنقید کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کردی۔

چھان بین کے بعد بہت سی غلط فہمیوں کو رد کیا مثلاً اس خیال کی تردید کی کہ میرامن کی باغ و بہار فارسی کے قصہ چہار دردیش کا ترجمہ ہے۔ انہوں نے دلیلوں سے ثابت کردیا کہ اس کا ماخذ لوطرز مرصع ہے۔ مولوی صاحب کی زبان سادہ و سلیس ہوتی ہے جیسی تحقیق کے لیے ضروری ہے۔
مقدمات عبدالحق، خطبات عبدالحق، تنقیدات عبدالحق ان سے یادگار ہیں۔ فرہنگ، لغت اور اصطلاحات پر بھی انہوں نے کام کیا۔ ’’چند ہم عصر‘‘ ان کی مقبول کتاب ہے جس میں مختلف شخصیتوں پر مضمون شامل ہیں۔

.....مزید پڑھئے

عبادت بریلوی کی پیدائش 14؍اگست 1920ء میں ہوئی۔ حصول تعلیم کے بعد تدریسی زندگی اختیار کی۔ پہلے اینگلوعربک کالج دہلی میں مدرس ہوئے لیکن تقسیم ملک کے بعد ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے۔ لاہور میں اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے شعبہ اردو کے صدر بن گئے۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس بھی ہوئے۔ اورینٹل کالج کے پرنسپل بھی رہے۔ 1980ء میں اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔ عبادت بریلوی نے انقرہ یونیورسٹی، ٹرکی اور اسکول آف افریقن اورینٹل اسٹڈیز لندن میں استاد کی خدمات انجام دیں۔

عبادت بریلوی اردو کے نامور نقاد اور محقق ہیں۔ ان کی بعض کتابیں ہندوپاک کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں رہی ہیں۔ ان کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ ویسے انہوں نے اردو تنقید میں اپنی ایک مخصوص جگہ بنا لی ہے۔ اس حد تک کہ یہ نام فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی تصنیف و تالیف کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ چند کے نام ہیں: ’’اردو تنقید کا ارتقا‘‘، ’’تنقیدی زاویے‘‘، ’’غزل اور مطالعہ غزل‘‘، ’’غالب کا فن‘‘، ’’روایت کی اہمیت‘‘، ’’جدید شاعری‘‘، ’’جدید اردو ادب‘‘ اور ’’میرتقی میر‘‘۔ یہ ساری کتابیں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ طلبا کے لیے یہ مفید تو ہیں ہی اردو شعروادب کے مزاج کی تفہیم میں ذہین لوگوں کے لئے بھی راہیں متعین کرتی ہیں۔

عبادت بریلوی تنقید کی کوئی بوطیقا مرتب نہیں کرتے۔ نہ ہی کسی شعریات کی کنہہ میں داخل ہوتے ہیں۔ دراصل ان کا سروکار وضاحتی تجزیے سے ہے۔ ایسے تجزیے میں کسی صنف کے ابتدائی احوال سے لے کر ارتقائی مرحلے سبھی زیر بحث آجاتے ہیں۔ ان کا تجزیہ عام طور سے ہمدردانہ ہوتا ہے۔ وہ ادبی مسائل کی تہہ در تہہ پیچیدگی سے اپنا رشتہ قائم نہیں رکھتے بلکہ معنوی سطح پر ایسا سروکار رکھتے ہیں کہ ادب پارہ کے وہ احوال روشن ہوجائیں جو عام طور سے سطح پر ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تنقیدی روش کو بوجھل نیں بناتے بلکہ تجزیے کے مقبول طریقہ کار کو اپناتے ہیں۔

عام طور سے نقاد اپنے علم کا بوجھ اپنے تجزیے میں اس طرح بھردیتا ہے کہ پڑھنے والا سراسیمہ ہوجاتا ہے اور علمیت کے اظہار کی پیچیدہ نفسیات اس کے لئے تفریح کا کوئی سامان بہم نہیں پہنچاتی لیکن عبادت بریلوی ایسے علمی بوجھ سے اپنی نگارشات کو گراں بار نہیں بناتے۔ کبھی کبھی ان کے یہاں تکرار لفظی و معنوی کا احساس ہوتا ہے اور یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ کہ اگر وہ اختصار اور جامعیت سے کام لیتے تو ان کی تحریریں اور بھی مفید ہوتیں۔ لیکن ان امور کو منہا کیجئے تو پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موصوف کی غایت دراصل کسی ادب پارے کی ایسی ترسیل ہے جہاں کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ طوالت کی شاید یہی وجہ ہے لیکن ذہین پڑھنے والے گاہے گاہے تکرار میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

میر اور غالب پر ان کے مطالعات وقیع سمجھے جاتے ہیں۔ ان موضوعات کو انہوں نے کچھ مختلف طریقے سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی تنقید نگاری کو وہ ایک واضح سمت دینا چاہ رہے ہیں اوریہ بھی کہ وہ اپنے موضوعات کے داخلی امور پر نگاہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ایسی تحریریں ان کے آخری وقتوں کی نشانی ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ اردو تنقید میں عبادت بریلوی کا ایک خاص رول ہے اور یہ رول اہم بھی ہے۔

ڈاکٹر عبادت بریلوی کا انتقال 78برس کی عمر میں نومبر 1998ء میں ہوئی۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے