مصنف : مرزا فرحت اللہ بیگ

ناشر : محبوب المطابع، دہلی

مقام اشاعت : Delhi (City), Other (District), Other (State), India (Country)

سن اشاعت : 1943

زبان : Urdu

موضوعات : تاریخ, مضامين و خاكه

ذیلی زمرہ جات : تہذیبی وثقافتی تاریخ, مضامین

صفحات : 52

معاون : انجمن ترقی اردو (ہند)، دہلی

پھول والوں کی سیر

کتاب: تعارف

مرزا فرحت اللہ بیگ اردو کے ممتاز مزاح نگار ہیں۔یوں تو وہ محقق، دانشور، انشاپرداز ،خاکہ نگار بھی معروف ہیں لیکن بحیثیت مزاح نگار ان کا مقام منفرد ہے۔ان کی ہر تحریر میں ان کا طنز و مزاحیہ عنصر غالب ہے۔ان کا عہد مغلیہ کے آخری دور کی معاشرت اور تمدن کا صحیح اور دلکش اور بہترین دورتھا۔اس لیے ان کی تحریریں بھی اس دور کی تہذیب و تمدن کی بہترین عکاس ہیں۔زیر نظر کتاب "بہادر شاہ ظفر اورپھول والوں کی سیر"مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے دور میں "پھول والوں کی سیر "کی تفصیلات پر مبنی ہے۔"پھول والوں کی سیر"دراصل سماجی ہم آہنگی کا ایک بے مثال تہوار ہے۔جس کا آغاز ہندوستان میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے والد اکبر شاہ دوم نے کیا تھا۔جو آج تک حکومتی سطح پر تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔دیگر تہواروں میں یہ تہوار اپنی رنگا رنگی ،ہندو مسلم اتحاد کے باعث منفرد اور اہم ہے۔یہ ایک تاریخی میلہ ہے جس کو مورخین سیر گل فروشا ں بھی کہتے ہیں۔آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے ہندو اور مسلمان کے مابین مودت و محبت اور قومی یک جہتی کو فروغ دینے کی غرض سے اس تہوار کے انعقاد میں خاص دلچسپی لی۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نے اپنی اس کتاب میں بہادر شاہ ظفر کے دور حکومت میں انعقاد ہونے والے اس تہوار کی خوب عکاسی کی ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

ہمارے مزاح نگاروں میں مرزا فرحت اللہ بیگ کو بہت مقبولیت حاصل ہے۔ وہ خاکہ نگار کی حیثیت سے بہت مشہور ہیں اور ان خاکوں کو ہر دل عزیز بنانے میں مرزا کی فطری ظرافت کو بہت دخل ہے۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا۔ تنقید، افسانہ، سوانح، سیرت، معاشرت و اخلاق کی طرف انہوں نے توجہ کی لیکن ان کی اصل شہرت کا مدار ظرافت نگاری پر ہے۔

وہ دہلی کے رہنے والے تھے۔ ان کے اجداد شاہ عالم ثانی کے عہد میں ترکستان سے آئے اور دہلی کو اپنا وطن بنایا۔ یہاں 1884ء میں مرزا کی ولادت ہوئی۔ تعلیم بھی یہیں ہوئی۔ کالج کی تعلیم کے دوران مولوی نذیر احمد سے ملاقات ہوئی۔ ان سے نہ صرف عربی زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی بلکہ ان کی شخصیت کا گہرا اثر بھی قبول کیا۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد حیدرآباد گئے۔ وہاں مختلف عہدوں پر فائز ہوئے 1947ء میں وفات پائی۔

ان کی تصنیف ’’دلی کا آخری یادگار مشاعرہ‘‘ مرقع نگاری کا عمدہ نمونہ ہے۔ مولوی نذیر احمد کو انہوں نے بہت قریب سے دیکھا تھا ور بہت برسوں دیکھا تھا۔ ’’مولوی نذیر احمد کی کہانی کچھ ان کی کچھ میری زبانی‘‘ میں ان کی ہوبہو تصویر اتاری ہے۔ اس خاکے نے ان کو لازوال شہرت عطا کی۔ یہ خاکہ مولوی وحید الدین سلیم کو ایسا پسند آیا کہ انہوں نے اپنا خاکہ لکھنے کی فرمائش کی۔ ان کی وفات کے بعد مرزا نے اس فرمائش کو پورا کردیا اور اس خاکے کو ’’ایک وصیت کی تعمیل میں‘‘ نام دیا۔ انہوں نے بڑی تعداد میں مضامین لکھے جو مضامین فرحت کے نام سے سات جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ شاعری بھی کی لیکن یہ ان کا اصل میدان نہیں۔

دہلی کی ٹکسالی زبان پر انہیں بڑی قدرت حاصل ہے اور شوخی ان کی تحریر کا خاصہ ہے۔ ان کے مضامین پڑھ کر ہم ہنستے نہیں، قہقہہ نہیں لگاتے بس ایک ذہنی فرحت حاصل کرتے ہیں۔ جب وہ کسی موضوع یا کسی شخصیت پر قلم اٹھاتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز نہیں کرتے اس جزئیات نگاری سے قاری کو بہت لطف ولذت حاصل ہوتی ہے۔

مرزا فرحت اللہ بیگ اصلاً مزاح نگار ہیں۔ ان کی تحریروں میں طنز کم ہے اور جہاں ہے وہاں شدت نہیں بس ہلکی ہلکی چوٹیں ہیں جن سے کہیں بھی زہرناکی پیدا نہیں ہوتی۔ ان کی مقبولیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ فلسفیانہ گہرائی اور سنجیدگی سے حتی الامکان اپنا دامن بچاتے ہیں۔ ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ قاری زیادہ سے زیادہ محظوظ ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

قارئین کی پسند

اگر آپ دوسرے قارئین کی دلچسپیوں میں تجسس رکھتے ہیں، تو ریختہ کے قارئین کی پسندیدہ

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید