آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی

قیصر الجعفری

آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی

قیصر الجعفری

MORE BYقیصر الجعفری

    آج برسوں میں تو قسمت سے ملاقات ہوئی

    آپ منہ پھیر کے بیٹھے ہیں یہ کیا بات ہوئی

    اڑ گئی خاک دل و جاں تو وہ رونے بیٹھے

    بستیاں جل گئیں جب ٹوٹ کے برسات ہوئی

    تم مرے ساتھ تھے جب تک تو سفر روشن تھا

    شمع جس موڑ پہ چھوٹی ہے وہیں رات ہوئی

    اس محبت سے ملا ہے وہ ستم گر ہم سے

    جتنے شکوے نہ ہوئے اتنی مدارات ہوئی

    ایک لمحہ تھا عجب اس کی شناسائی کا

    کتنے نادیدہ زمانوں سے ملاقات ہوئی

    قتل ہو جاتی ہے اس دور میں دل کی آواز

    مجھ پہ تلوار نہ ٹوٹی یہ کرامات ہوئی

    گاؤں کے گاؤں بجھانے کو ہوا آئی تھی

    میرے معصوم چراغوں سے شروعات ہوئی

    شاعری پہلے رسولوں کی دعا تھی قیصرؔ

    آج اس عہد میں اک شعبدۂ ذات ہوئی

    مأخذ :
    • کتاب : Agar Darya Mila Hota (Pg. 102)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY