آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے

علی احمد جلیلی

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے

علی احمد جلیلی

MORE BYعلی احمد جلیلی

    آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے

    غم کی توقیر ذرا اور بڑھا دی جائے

    کیا اسی واسطے سینچا تھا لہو سے اپنے

    جب سنور جائے چمن آگ لگا دی جائے

    عقل کا حکم کہ ساحل سے لگا دو کشتی

    دل کا اصرار کہ طوفاں سے لڑا دی جائے

    دور تک دل میں دکھائی نہیں دیتا کوئی

    ایسے ویرانے میں اب کس کو صدا دی جائے

    تبصرہ بعد میں بھی قتل پہ ہو سکتا ہے

    پہلے یہ لاش تو رستے سے ہٹا دی جائے

    مصلحت اب تو اسی میں نظر آتی ہے علیؔ

    کہ ہنسی آئے تو اشکوں میں بہا دی جائے

    مآخذ:

    • کتاب : Mujalla Dastavez (Pg. 240)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY